کبھی عرش پر کبھی فرش پر برجیس طاہر سڑک پر آگئے.


اقتدار کے نشے میں برجیس طاہر اور ان جیسے کئی حکمران جو کے خود کو فرعون سمجھنے لگتے ہیں وہی اقتدار کی راتیں ختم ہونے کے بعد واپس فرش پر آہی جاتے ہیں جو پولیس دن رات ان کے اشاروں پر ناچتی ہے اقتدار کے بعد وہی پولیس ان کو مہنگی گاڑیوں کی سیٹوں سے تپتی سڑک پر لے آتی ہیں چاہے وہ کچھ عرصے کے لئے ہو یا محض دیکھاوا ہی ہو.ایسی ہی کچھ صورتحال کا سامنا برجیس طاہر, رانا ارشد اور شذرہ منصب کو بھی کرنا پڑا جب وہ کارکنوں کو لے کر لاہور کی طرف نکلے. 
برجیس طاہر کے قافلے کو بنجاب پولیس نی راستے میں روک لیا

پولیس کے روکنے پر برجیس طاہر کارکنوں کے ساتھ وہیں سڑک پر بیٹھ گئے

ابھی چند دن ہی کی بات ہے کہ ایون فیلڈ کیس میں عدالت نے نواز شریف,مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بالترتیب دس سال, سات سال اور ایک سال کی سزا سنائی گئی. کل کے حکمران آج کے مجرم ٹہرے. سب سے پہلے کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا جو کہ ایک ریلی کی قیادت کررہے تھے اس کے ساتھ ہی نواز شریف اور مریم نواز نے بھی لندن سے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے مقدمات کا سامنا کرسکیں نواز شریف کی آمد کے دن تمام ن لیگی کارکنوں نے لاہور کی طرف مارچ کا فیصلہ کیا تاکہ نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری میں رخنہ ڈال سکیں. پورے ملک کی طرح این اے 117 میں پرجیس طاہر اور رانا ارشد بھی کارکنوں کے لے کر لاہور کی جانب نکلے لیکن پنجاب پولیس نے ان کے قافلے کو راستے میں روک دیا اور ان کو وہیں سڑک پر بیٹھنے پر مجبور کردیا یہ وہی پنجاب پولیس جس کا استعمال برجیس طاہر, طارق باجوہ, رانا ارشد اور ان کی طرح باقی کئی ایم این اے اور ایم پی اے اپنے سیاسی مخالفین کو نقصان پہچانے کے لئے کرتے ہیں لیکن جب یہی سیاستدان حکومت میں نہیں رہتے اور دنگے فسادات میں اسی پولیس سے ڈنڈے کھا رہے ہوتے ہیں اقتدار کے نشے میں اسی پولیس سے ماڈل ٹاؤن میں 14 بیگناہوں کا دن دیہاڑے قتل کرواتے ہیں تو جب اقتدار کا نشہ اُترتا ہے تو اسی پولیس کی لاٹھی ان بے آواز ہو جاتی ہیں نواز شریف جیسے حکمران جو پچھلے پانچ سال اقتدار کے نشے میں مست تھے وہ آج جیل میں سڑ رہے ہیں بہت عرصے بعد محسوس ہوا ہے کہ ہمارے ملک درست سمت میں گامزن ہے اور اللہ اس کو اسی طرح آباداور خوشحال رکھے




ads