طارق محمود باجوہ اور برجیس طاہر کے ایسے کارنامے جن کو سانگلہ ہل کی عوام کبھی فراموش نہیں کرے گی


چوہدری برجیس طاہر جو کہ 1990 سے لے کر 1999 تک قومی اسمبلی کے ممبر رہے پھر سانگلہ ہل کی عوام نے 2008 سے لے کر 2013 اور 2013 سے لے کر 2018 تک منتخب کیا اور دوسری طرف طارق محمود باجوہ کو بھی اسی حلقے کی عوام نے دو دفعہ 2008 اور 2013 میں منتخب کیا. ان کے ہر انتخابی فلیکس پر شہنشاہ تعمیرات لکھا آپ کو ملے گا لیکن یہ پچھلے دس سال میں انڈر پاس تعمیر نہ کرسکے. کیا ہی اچھا ہو کہ یہ دونوں حضرات اس مرتبہ ووٹ مانگنے کے لئے شہباز شریف کی طرح لانگ بوٹ یا ہل پارک میں چلتی ہوئی چند کشتیوں کا سہارا 
لیں



بارش کےبعد سانگلہ ہل کا حال بھی لاہوری پیرس سے کم نہیں ہوتا. جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور بارش کا پانی گلیوں و بازروں میں جمع ہو جاتا ہے. شہباز شریف صفائی پروگرام کے تحت دیہات کی صفائی کا کام بھی شروع ہو چکا ہے. شہروں میں گلیوں بازاروں میں سے میونسپل کمیٹی والے کوڑا کرکٹ اُٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن دیہات میں حالات بہت مختلف ہیں وہاں پر کچرے اور غلاظت کے ڈھیر  اُٹھانے کی بجائے جہاں گندگی کا ڈھیر دیکھتے ہیں وہاں پر یونین کونسل والے بورڈ نصب کردیتے ہیں " کوڑا یہاں پھینکیں "

  سانگلہ ہل میں ایم این اے اور ایم پی اے صاحب دونوں امیدوار شمیم حیدر کی حمایت کا دعوی کررہے ہیں لیکن ان دونوں حضرات نے شمیم حیدر کا انڈر پاس دوبارہ تعمیر کروانا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ وہ مچھروں سے ان کا آبائی گھر نہیں چھیننا چاہتے جس کی وجہ سے کئ قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں. اہل علاقہ کی باجوہ صاحب سے گزارش ہے کہ ہل پارک کے چند کشتیاں انڈر پاس میں چھوڑ دی جائیں تاکہ باوقت ضرورت ان کشتیوں سے پھاٹک کراس کرکے قیمتی جانوں کو بچایا جاسکے.


اس کی بعد بات کرتے ہیں سبزی منڈی کی جہاں شہر اور آس پاس کے لوگ کھانے کے لئے سبزی خریدتے ہیں لیکن بارش کے بعد اس سبزی منڈی کا حال بھی کسی گندے نالے کے باہر پھینکی ہوئی غلاظت جیسا ہوجاتا  ہے ایسے ماحول میں موجود سبزیاں خرید کر صحت بنے گی یا بگڑ گئی یہ تو اللہ ہی بہتر جانے.


اگر آپ بھی سانگلہ ہل کے کسی عوامی مسئلے پر لکھنا چاہتے ہیں تو کمنٹ کریں. سانگلہ ہل کے حالات و واقعات سے باخبر رہنے کے لئے اس بلاگ کا وزٹ کرتے رہیں. شکریہ

ads